بھٹکل4/اپریل(ایس او نیوز) کورونا کی وباء پھیلنے کے بعد گلف سے آئے ہوئے کئی لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں کورنٹائن کیا گیا ہے اور اُنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چودہ دنوں تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلے، لیکن آج سنیچر کو بعض لوگوں نے حکام سے شکایت کی ہے کہ ایک شخص کو انہوں نے بازار میں دوائی کی دکان پر دیکھا ہے جس کے ہاتھ پر کورنٹائن کی مہر (سیل) لگی ہوئی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ شخص دوائی کی دکان پر پہنچ کر خواہ مخواہ شرپسندی دکھائی اور وہاں ایمرجنسی دوائی خریدنے کے لئے کھڑے ہوئے لوگوں کو اپنے کوارنٹائن کی مہر (سِیل) لگے ہوئے ہاتھ سے چھوکر جس کار پر آیا تھا، اُسی کار میں بیٹھ کر فرار ہوگیا۔
جن لوگوں نے شکایت کی ہے اُن کا کہنا ہے کہ آج صبح 12.30بجے ا یمرجنسی دوائیاں خریدنے کے لئے کچھ لوگ دکان کے باہر قطارمیں لگے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک کار دکان کے سامنے پہنچی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا اور قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں کے جسم کو چھونے لگا۔ اس کے ہاتھ پر کورنٹائن کیے جانے کی مہر لگی دیکھ کر لوگ دہشت زدہ ہوگئے اور ادھر اُدھر بھاگ کھڑے ہوئے۔جبکہ متعلقہ شخص آرام سے اپنی کار میں بیٹھ کر موقع پر سے رفوچکر ہوگیا۔ ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افراتفری پیدا ہوتے ہی دوائی کی دکان بھی بند کردی گئی۔
شکایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کورونا کے شبہ میں گھر میں محدود رکھے گئے اس شخص نے اس طرح گھر سے باہر نکلنے اور بلاوجہ ہی بازار میں پہنچ کرلوگوں کے جسم کو چھونے کی شرارت جان بوجھ کر کی ہے۔لوگوں کاکہنا ہے کہ اس طرح اس نے عوام میں دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکام کو شکایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس شخص کو فوری طور پر حراست میں لے کر گہرائی سے تفتیش کی جائے اور اس کی حرکت کا اصل مقصد اور حقیقت سے عوام کو واقف کرایا جائے۔
محکمہ کے ایک آفسر نے بتایا کہ اس تعلق سے چھان بین کی جارہی ہے کہ آیا ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔